my great dating - Muslim live cam to cam sex


Muslim live cam to cam sex-20Muslim live cam to cam sex-47Muslim live cam to cam sex-3

Systematic lying as a religious policy is deadly, and if our politicians do not understand this, thousands could die.

Muslims lie when it is in their interest to do so and “Allah” will not hold them accountable for lying when it is beneficial to the cause of Islam.

al-Taqiyya: deception; the islamic word for concealing or disguising one’s beliefs, convictions, ideas, feelings, opinions, and/or strategies.

It is impossible to understand Islam and Muslims by listening to their protestations against terror and their proclamations of patriotism for America. It is called “Al-taqiyya.” One Muslim said that Al-taqiyya means dissimulation then he expanded it to diplomacy but he should have gone further to deception.

قرآنی آیات کی معجزانہ تاثیر دیکھئے کہ آسٹریلیا کی ایک خاتون سورہ یٰسین کی آیات کا انگریزی ترجمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہو گئیں۔ ام امینہ بدریہ کی ایمان افروز داستان قبول اسلام انہی کی زبانی سنیے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے والد کا تعلق تھائی لینڈ سے تھا۔ وہ پیدائشی لحاظ سے مسلمان تھے لیکن عملی طور پر ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جبکہ میری والدہ بدھ مت تھیں اور والد صاحب سے شادی کے وقت مسلمان ہوئی تھیں۔ وہ دونوں بعدمیں آسٹریلیا آ کر آباد ہو گئے تھے۔ میرا پیدائشی نام ( ٹے نی تھیا ) Tanidthea تھا۔ میں نے یونیورسٹی آف نیوانگلینڈ، آرمیڈیل سے ایم اے اکنامکس کیا اور بزنس مارکیٹنگ اور ہیومن ریسورسز کے مضامین پڑھے۔ پھر میں بطور ٹیوٹر پڑھانے لگی۔ اسی اثناءمیں شادی ہو گئی شادی اسلامی قانون کے مطابق ہوئی۔ میرے شوہر کمپیوٹر گرافکس ڈیزائنر تھے۔ وہ شادی کے وقت مسلمان ہوئے تھے لیکن نام کے مسلمان تھے۔ اسلام پر ہرگز عامل نہیں تھے۔ میرے والد بھی نام کے مسلمان تھے اور انہیں دین کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا نہ انہوں نے ہمیں کچھ بتایا۔ یہی وجہ تھی کہ ہم بھی دین سے مکمل طور پر عاری تھے۔ میں کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اللہ مجھے معاف کرے، میں ملحد تھی۔ میں جب اپنے شوہر کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گزار چکی تو ایک وقت مجھ پر ایسا آیا کہ دنیا سے میرا دل اچاٹ ہو گیا اور میں پریشانی کی حالت میں تھی۔ اس پر میں نے سوچا کہ مجھے نماز پڑھنی چاہیے جیسا کہ میں نے ایک دفعہ اپنے والد صاحب کو کہیں پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ لیکن جب میں نے اپنے شوہر کو اس کے بارے میں بتایا تو اس نے اس بات کا بہت برا مانا۔ اس نے کہا ( نعوذ باللہ ) کوئی اللہ واللہ نہیں ہے اور نہ نماز وغیرہ کچھ ہے۔ دریں اثنا میرے والدین وفات پا گئے تھے۔ تقریبا سات سال پہلے آسٹریلیا کی نیوساؤتھ ویلز سٹیٹ کے شہر آرمیڈیل کی ایک چھوٹی سی مسجد میں گئی جو کہ غیر ملکی مسلم طلبہ کیلئے تعمیر کی گئی تھی۔ وہاں سے میں نے انگلش ترجمے والا قرآن مجید پڑھنے کیلئے مستعار لیا۔ یہ قرآن مجید خادم الحرمین شریفین الملک فہد بن عبدالعزیز آل سعود ( سعودی عرب ) کی جانب سے شائع شدہ تھا۔ میں اسے گھر لے جا کر محض اس کی ورق گردانی ( Flip ) کر رہی تھی کہ سورہ یٰسین کی ان آیات کا ترجمہ میرے سامنے آیا جن میں چاند اور سورج کی حرکت کے بارے میں سائنسی انداز میں بیان کیا گیا ہے: ” اور سورج اپنی معین راہ پر گردش کر رہا ہے یہ اللہ عزیز و علیم کی منصوبہ بندی ہے اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کر رکھی ہیں یہاں تک کہ وہ اُن سے گزرتا ہوا پھر کھجور کی سوکھی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے۔ نہ سورج کی یہ مجال کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے اور یہ سب اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔ “ یہ ترجمہ پڑھنا تھا کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میرے جسم میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔ میں نے سوچا کہ نبی ﷺ اُمی تھے۔ یعنی پڑھے لکھے نہ تھے لیکن اتنے بہترین سائنسی انداز میں جو آپ ﷺ نے بیان کیا ہے تو ضرور ان پر اللہ کی طرف سے وحی ہو سکتی ہے۔بس اس لمحے میرے دل کی دنیا بدل گئی اور میں نے اللہ کی کتاب قرآن عظیم الشان کا مطالعہ اور اس میں غور و فکر شروع کر دیا۔ میں جب بھی اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتی ہوں پہلے اپنے سابقہ عمل پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتی ہوں اور پھر ان پر پورا پورا عمل کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں قبول اسلام کے بعد مسجد میں جاتی رہی۔ شروع شروع میں، میں پردہ نہیں کرتی تھی پھر جب نمازیوں نے مجھے بتایا کہ یہ گناہ ہے تو اسی دن سے میں نے اپنے گھر جا کر اسکارف لیا اور پہننا شروع کر دیا، نیز اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کرنے لگی۔ میں نے خاصی کوشش کی کہ میں اپنے شوہر کو اسلام کے بارے میں قائل کر سکوں لیکن وہ نہ مانا، حالانکہ میری اس سے بیٹی بھی پیدا ہو چکی تھی۔ آخر میں نے اس سے کہا کہ یا اسلام قبول کر لو یا مجھے چھوڑ دو۔ تب اس نے مجھے طلاق دے دی اور مجھ سے اور میری بیٹی سے دستبردار ہو گیا۔ دریں اثنا میں انٹرنیٹ پر اپنے ایک پاکستانی بھائی عبدالصمد سے چیٹنگ کرنے لگی اور ان سے اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرتی رہی جو وہ مجھے وقتاً فوقتاً بہم پہنچاتے رہے۔ آخر میں نے فیصلہ کیا کہ میں آسٹریلیا سے اسلام کیلئے ہجرت کر لوں۔ میں نے پاکستان کی جانب ہجرت کرنے کو ترجیح دی۔ اسلام لانے سے پہلے میری بیٹی کا نام ( توان وارٹ ) تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میں اس کا نام تبدیل کر کے امینہ رکھ دیا۔ میں نے اپنا نام غزوہ بدر کی نسبت سے بدریہ رکھا تھا بیٹی کے حوالے سے میں ام امینہ کہلاتی ہوں۔ میں نے اپنی بیٹی کو آسٹریلیا کے کسی سکول میں بھجوانا مناسب نہ سمجھا کیونکہ وہاں تعلیم میں موسیقی اور ان کے پرچم کے آگے ادب و احترام کیلئے مختلف افعال کی ادائیگی شامل تھی جو کہ مجھے پسند نہیں تھی، لہٰذا میں نے اپنی بیٹی کو اپنے گھر ہی میں اسلام کی ابتدائی تعلیم و تربیت دی ہے۔ آسٹریلیا میں اکثریت عیسائی مذہب پر یقین رکھتی ہے لیکن الحمد للہ اب لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں اور خاص طور پر خواتین بڑی تیزی سے اسلام کی طرف آ رہی ہیں۔ چند خواتین نے مسلمانوں کے ساتھ شادیاں کی ہیں۔ اکثر خواتین اپنے تحفظ اور احترام کیلئے اسلام کی طرف متوجہ ہو رہی ہے جو کہ صرف اسلام عطا کرتا ہے۔ آسٹریلیا کے مسلمانوں میں اکثریت عمل سے دور ہے لیکن وہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو قرآن اور سنت پر مکمل عمل کر رہے ہیں لیکن مجھے بعض اوقات ایسے معلم علماءکے رویوں سے بہت دکھ ہوتا ہے جو اللہ کی خاطر حق بات نہیں کہتے بلکہ ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے آسٹریلیا کے اہل اقتدار کو خوش کیا جائے۔ مثلا پچھلے دنوں ایک عالم دین سے انٹرویو کیا گیا تو اس نے یہ کہا کہ عراق میں جو مسلمان مر رہے ہیں وہ شہید نہیں ہیں۔ آج ہم جہاد کے نام سے بھی ڈر رہے ہیں جبکہ عراق کے لوگ کوئی جارحانہ لڑائی ( Offensive )نہیں لڑ رہے بلکہ اپنی بقا کی جگہ (Defensive) لڑ رہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے کیونکہ ان پر جنگ مسلط کی گئی ہے۔ میں ہر چیز کیلئے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی کی دعا کرتی رہتی ہوں کہ اے اللہ تو میری رہنمائی فرما اگر انسان اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ سیدھے راستے کی درخواست کرے تو اللہ تعالیٰ ضرور اپنے بندے کی رہنمائی فرماتا ہے۔ لہٰذا میں ہر کام میں صراط مستقیم کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی رہتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ میری رہنمائی فرماتا ہے۔ میں پاکستانی مسلمان عورتوں سے بھی کہوں گی کہ وہ اپنے دین کی طرف متوجہ ہوں۔ دنیا کی کچھ حیثیت نہیں ہے یہ چند روزہ زندگی ہے اسے گزر ہی جانا ہے، اگر یہ حقیقت سمجھ لی جائے تو مال، جائیداد، اولاد ان سب کی حقیقت انسان پر آشکارا ہو جاتی ہے۔ اس لئے ان کو چاہیے کہ صحیح معنوں میں اسلام کو بطور دین قبول کریں اور رسم و رواج سے ہٹ کر اس پر عمل کرنا چاہیے۔ لیکن میں نے یہاں دیکھا ہے کہ اکثر عورتیں شرعی پردہ نہیں کرتیں۔ صرف رواجی پردہ کرتی ہیں، جب گھر سے باہر نکلنا ہوتا ہے تو خوب پردہ کر لیتی ہیں لیکن گھروں میں نوکروں، دیوروں اور رشتے داروں کے سامنے پردے کا حق ادا نہیں کرتیں جس کا سارا گناہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے شوہروں کو بھی ہو گا۔ میں ان سے یہی کہوں گی کہ وہ اپنے اللہ کی طرف رجوع کریں۔ ان شاءاللہ ان کا یہ عمل دنیا و آخرت کی کامیابی کیلئے اجر کا ذریعہ ہو گا۔ بشکریہ عبدالخنان ڈاٹ ویبلی ڈاٹ کم سمند ر میں میٹھے اور کھارے پانی کا وجود ۔ قرآن اور سائنس کی روشنی میں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے : (مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِ .

  • dating sim games girls
    Reply

    The castle rock has been strategically significant since at least the Roman occupation of Britain, due to its naturally defensible crag and tail hill: the bedrock on which Stirling Castle was built.

  • dating personals reubens idaho
    Reply

    Lviv is a wonderful city, it's like a portal to the Middle Ages, it's full of romance and maybe that is why everything was that great. I was 32 and single, not actually too old for a guy, but still single without any girlfriends around…

  • what to say when contacting online dating
    Reply

    Those bullish on Snap say that it's mastered the art of meeting its audience where they are. has figured out how to capitalize on the short attention span of younger generations and to create meaningful engagement experiences with friends, family and even celebrities and brands," said Greg Ng, VP of Digital Engagement at the social media consultancy Point Source.

  • Free online sex chat without paying any money
    Reply

    This venue offers a full bar and café to serve all of your drink and food needs.